سنکیانگ انٹرنیشنل گرینڈ بازار کے دروازے کے باہر حال ہی میں لوگوں کی ایک لمبی قطار نظر آئی۔ یہ لوگ بازار سے نان خریدنے کے لیے نہیں بلکہ ایک کپ کافی کے انتظار میں کھڑے تھے۔ بین الاقوامی برانڈ” سٹار بکس “نے یہاں ایک نئی شاخ کھولی ہے ۔ ارومچی کے اس قدیم اور مصروف بازار میں لوگ اسے مزاحیہ انداز میں “سٹار بازار” کہہ رہے ہیں۔ نام میں مقامی اور غیرملکی رنگ کا خوب صورت امتزاج ہے، جیسے کوئی مقامی شخص کسی غیرملکی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہے: “سنکیانگ آئے ہو تو اپنے غیرملکی نام کو چھوڑو، یہاں کے رسم و رواج کے مطابق تمہارا نام اب ‘محمد’ ہی سہی۔ “
یہ سنکیانگ میں ” سٹار بکس ” کا پہلا اسٹور اور پورے چین میں غیر مادی ثقافتی ورثے کا اس کا پہلا فلیگ شپ اسٹور ہے۔ 29 ستمبر کو یہ اسٹور ارومچی تھیان شان انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں”سٹار بکس “کے نئے اسٹور کے ساتھ بیک وقت کھولا گیا۔ اسٹور کے ڈیزائن میں بارہ مقام ،اطلسی ریشم اور روایتی قومیتی موسیقی کے آلات سمیت سنکیانگ کے متعدد غیر مادی ثقافتی ورثوں کے عناصر کو تفصیل سے شامل کیا گیا ہے۔ بازار کے روایتی ماحول کو بھی یہاں دوبارہ تخلیق کیا گیا ہے۔ اسٹور کے ملازمین اور صارفین وقتاً فوقتاً رقص اور باہمی سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ سرخ انار اور دودھ کی تہہ سمیت سنکیانگ کے مقامی اجزا کو مصنوعات میں شامل کیا گیا ہے۔قومی دن کی تعطیلات کے دوران سنکیانگ کا ایک خصوصی مشروب اور تین خصوصی غذائی مصنوعات بھی محدود مدت کے لیے چین کے 41 شہروں میں موجود ” سٹار بکس ” کے 2700 سے زائد اسٹورز پر متعارف کرائی گئیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سنکیانگ کے ذائقوں کو اتنے بڑے پیمانے “سٹار بکس ” کے ذریعے ملک بھر میں متعارف کرایا گیا ہے۔
یہ ایک مضبوط تجارتی فیصلہ ہے اور بذاتِ خود سنکیانگ میں سماجی استحکام اور خوشحالی، مارکیٹ کی کشش اور صارفین کی مسلسل بڑھتی ہوئی قوتِ خرید کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ایسی معمول کی تجارتی خبر بھی امریکی ایوانِ نمائندگان کی “China Select Committee” کی جانب سے بیان جاری کرنے کا سبب بن گئی۔ کمیٹی نے دعویٰ کیا کہ “سٹار بکس ” کا سنکیانگ میں داخل ہونا “اخلاقی زوال ” ہے اور یہاں تک کہ اسٹور بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
اس بیان کے پیچھے وہی پرانا دعویٰ ہے کہ “سنکیانگ میں نسل کشی ہو رہی ہے “۔ لیکن کئی برس گزرنے کے باوجود اس دعوے کے حق میں ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا جو قابلِ اعتماد اور مضبوط بنیاد رکھتا ہو۔ نہ ہی کسی مستند بین الاقوامی ادارے کی جانب سے سنکیانگ میں زمینی حقائق کی تحقیقات کے نتیجے میں ایسا قابلِ اعتماد فیصلہ سامنے آیا ہے۔
جو کچھ پیش کیا جاتا ہے، اس میں ایسے “محققین ” کی تحقیق شامل ہوتی ہے جنہوں نے کبھی سنکیانگ کا دورہ بھی نہیں کیا۔ ایسے اداروں کی تیار کردہ نام نہاد رپورٹس اور خبریں شامل ہوتی ہیں جنہیں چین مخالف فاؤنڈیشنز سے مالی معاونت حاصل ہے، اور ایسے “شکایتی انٹرویوز ” بھی شامل ہوتے ہیں جن میں اداکاروں کو “متاثرین ” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ بعض اوقات تو صرف “گوگل میپ “سے لی گئی غیر واضح تصاویر کو جوڑ کر انہیں ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
اگر اس کمیٹی کے معیار کو بنیاد بنایا جائے تو سنکیانگ میں کاروبار کرنے والی ہر کمپنی اپنےآغاز ہی سے “اصل گناہ ” کی مرتکب ہے، جبکہ سنکیانگ میں کام کرنے، خریداری کرنے، اشیا خریدنے یا آمدنی حاصل کرنے والے ہر شخص کو صرف “جبری مشقت ” اور “جبر ” کے فریم ورک میں ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں بعض چینی ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر چین کی تمام رئیر ارتھ کمپنیوں کو سنکیانگ میں رجسٹر کرکے وہاں کاروبار کرنے کا انتظام کر دیا جائے تو امریکہ کا ردِعمل کیا ہوگا؟
واشنگٹن کا یہ اسکرپٹ کوئی نیا نہیں۔ چند سال پہلے کہا گیا کہ سنکیانگ کی کپاس نہیں چنی جا سکتی، ٹماٹر نہیں خریدے جا سکتے، سولر پینل نصب نہیں کیے جا سکتے اور ایلومینیم تیار نہیں کیا جا سکتا۔ اب ایک کپ Latte بھی اس “جرم میں شریک ” ہوگئی ہے ۔زرعی مصنوعات سے صنعتی مصنوعات اور پھر ایک کپ کافی تک، فہرست مسلسل طویل ہوتی جا رہی ہے، لیکن اس کے پیچھے سیاسی مقصد وہی ہے ۔ سنکیانگ کو ہمیشہ چین کے سر پر لٹکتی ایسی “اخلاقی سولی ” میں تبدیل کرنا جسے کسی بھی وقت خوف پیدا کرنے، دھمکانے اور دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا سکے، اور یہاں معمول کی زندگی گزارنے والے لوگوں کو ” مظلوم ” اور “متاثرہ ” کے کرداروں میں تقسیم کر دیا جائے۔
اس حوالے سے چین کی وزارتِ خارجہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ سنکیانگ میں “نسل کشی” کے دعوے سراسر جھوٹ ہیں۔ امریکی متعلقہ ادارے سیاسی مقاصد کے تحت من گھڑت باتیں پھیلانے اور چین پر حملے اور اس کی بدنامی کے عادی ہیں، اس لیے ان کی کوئی ساکھ نہیں۔ اس وقت سنکیانگ میں سماجی استحکام، اقتصادی ترقی، نسلی اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی موجود ہے۔ چین اعلیٰ سطح کی کھلی معیشت کو مزید وسعت دیتا رہے گا اور غیرملکی کمپنیوں کو چین میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے مزید مواقع فراہم کرے گا۔
“سٹار بازار ” معمول کے مطابق اور پائیدار تجارتی سرگرمی کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک کمپنی مقامی مارکیٹ کا احترام کرتی ہے، صارفین کو اپنی پسند کے مطابق خریداری کی آزادی حاصل ہے، جبکہ مقامی ثقافت اور تجارتی ماحول باہم گھل مل جاتے ہیں۔ مقامی ملازمین، سپلائی چین سے وابستہ کاروبار، سیاح اور مقامی باشندے سب اس عمل کا حصہ بنتے ہیں۔یہ جاننے کے لیے کہ کوئی کمپنی کسی مارکیٹ میں کیوں داخل ہوتی ہے، سب سے پہلے کاروباری اصولوں کو دیکھنا چاہیے، نہ کہ سیاسی تصورات کو۔2025 میں سنکیانگ کی مجموعی علاقائی پیداوار 21,46.214 ارب یوان رہی۔ اس دوران خطے میں اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے 32 کروڑ 30 لاکھ سیاح آئے اور سیاحت سے 3,70 ارب یوان آمدنی حاصل ہوئی ۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار کسی مخصوص اسٹور کی کاروباری کارکردگی کی پیش گوئی کا متبادل نہیں ہو سکتے، تاہم یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ سنکیانگ میں ایک مستحکم اور خوشحال سماجی و کاروباری ماحول موجود ہے، جہاں صارفین کی مناسب تعداد، کاروباری اداروں، سیاحوں کی آمد اور صنعتی تعاون کے لیے ضروری بنیاد دستیاب ہے۔ “سٹار بکس “کا سنکیانگ میں داخل ہونا کوئی وقتی فیصلہ نہیں۔ اس کمپنی کو سرمایہ کاری کرنا، ٹیم تشکیل دینا، خام مال خریدنا، ذخیرے اور نقل و حمل کا نظام قائم کرنا، مصنوعات تیار کرنا اور طویل عرصے تک کاروبار چلانا ہے۔ کسی مارکیٹ میں اس نوعیت کی طویل المدت سرمایہ کاری خود اس مارکیٹ پر اعتماد کا ایک مضبوط اظہار ہوتی ہے۔
“سٹار بازار ” ایک آئینہ ہے۔ ایک طرف مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ قطار میں کھڑے ہو کر آرڈر دے رہے ہیں، کیو آر کوڈ اسکین کرکے اپنا کھانا اور مشروب وصول کر رہے ہیں اور تصاویر بنا کر انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایسے سیاست دان ہیں جو کبھی سنکیانگ گئے ہی نہیں، لیکن پھر بھی ایک کافی شاپ پر “اخلاقی زوال ” کا لیبل لگانے کی ہمت کرتے ہیں۔ “سٹار بکس ” کمپنی سنکیانگ میں طویل عرصے تک کاروبار کر پائے گی یا نہیں ، اس کا فیصلہ بالآخر مصنوعات، خدمات، قیمت، صارفین کی تعداد اور اخراجات کریں گے، نہ کہ کوئی سیاسی بیان۔ گرینڈ بازار بدستور مصروف ہے، انار بدستور سرخ ہیں اور کافی بدستور گرم ہے۔ مقامی لوگ یہاں آنا چاہتے ہیں، سیاح یہاں گھومنا چاہتے ہیں، مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں، ہنر سیکھ رہے ہیں اور محنت کے ذریعے خوشحال ہو رہے ہیں۔کسی دور بیٹھے کمیٹی کے بیان کے مقابلے میں یہ روزمرہ کے وہ مناظر ہیں جنہیں دیکھا جا سکتا ہے، جن کا ذائقہ محسوس کیا جا سکتا ہے اور جن میں براہِ راست حصہ لیا جا سکتا ہے۔ یہی چیزیں ایک حقیقی اور جیتے جاگتے سنکیانگ کی زیادہ واضح تصویر پیش کرتی ہیں۔
اگر اور میں صرف “اگر ” کہہ رہا ہوں کہ “سٹار بکس کی کوئی شاخ غزہ کے ملبے پر، وینزویلا کے صدارتی محل کے قریب یا ایبٹ آباد میں اس مکان کے مقام پر قائم کر دی جائے جہاں اسامہ بن لادن مارا گیا تھا، تو کیا امریکی کانگریس کی کوئی کمیٹی بیان جاری کرکے اسے “اخلاقی فتح” قرار دے گی؟وقت آنے پر دیکھتے ہیں
سنکیانگ میں “نسل کشی” کے دعوے سراسر جھوٹ ہیں، چینی وزارت خارجہ
- October 9, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 7 Views
- 10 hours ago

Share This Post:
Related Post
چین میں نئی معیاری پیداواری قوتوں کے فروغ سے
October 9, 2026
اقوام متحدہ میں چینی نمائندے کی جاپان کے دوبارہ
October 9, 2026
چائنا کوسٹ گارڈ کی فلپائن کو اشتعال انگیزی اور
October 9, 2026
گولڈن ویک کے دوران ایک کھلے چین کا مشاہدہ
October 9, 2026
“شی جن پھنگ کی ثقافت سے متعلق منتخب تحریروں”
October 9, 2026
جمہوریہ بوٹسوانا کے صدر چین کا سرکاری دورہ کریں
October 9, 2026

Leave feedback about this