بین الاقوامی قابلِ تجدید توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل فرانسسکو لا کامرا نے کہا ہے کہ چین نے تکنیکی ترقی کو فروغ دینے اور صاف توانائی کے آلات کی لاگت کم کرنے کے ذریعے عالمی سطح پر توانائی کی منتقلی اور کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ابوظہبی میں واقع ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرز میں حالیہ گفتگو کے دوران لا کامرا نے کہا کہ توانائی کی منتقلی میں چین کی بنیادی شراکت، دنیا کو کم لاگت والی قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین شمسی توانائی، ہوا سے بجلی کی پیداوار اور بیٹریوں سمیت مختلف ٹیکنالوجیز میں مسلسل ترقی کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعلقہ مصنوعات کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔لا کامرا کے مطابق، عالمی توانائی کی منتقلی میں چین کا کردار بین الاقوامی اور قومی، دونوں سطحوں پر نمایاں ہے۔ بین الاقوامی سطح پر چین دنیا کو مسابقتی قیمتوں پر قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی اور آلات فراہم کر رہا ہے، جس سے ان ٹیکنالوجیز تک رسائی آسان اور ان کا استعمال زیادہ سستا ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اپنے ملک میں بھی قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے اور صاف بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔
چین عالمی توانائی کی منتقلی میں اہم شراکت دار ہے، بین الاقوامی قابلِ تجدید توانائی ایجنسی
- October 27, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 3 Views
- 15 hours ago

Share This Post:
Related Post
چین اور برازیل کے تعلقات کی طویل المدتی نوعیت
October 27, 2026
چینی صدر کا جاپان کے سابق وزیرِ اعظم فوکوڈا
October 27, 2026
چین تاریخی حقائق کا تحفظ برقرار رکھے گا، چینی
October 27, 2026
چین مصنوعی ذہانت کے دور کے سوال کا جواب”روزگار
October 27, 2026
چین میں جنوری سے ستمبر تک نامزد سائز سے
October 27, 2026
جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر چین کے سرکاری
October 27, 2026

Leave feedback about this