فیلڈز میڈل یافتہ ریاضی دان میکسم کونٹسیوچ نے چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ رواں سال جولائی میں چین کے دو نوجوان ریاضی دانوں کا فیلڈز میڈل حاصل کرنا ان کے لیے کوئی حیران کن بات نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ چین میں بے شمار غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ریاضی دان موجود ہیں اور اعلیٰ درجے کے اہلِ علم کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ فیلڈز میڈل کو “ریاضی کی دنیا کا نوبیل انعام” کہا جاتا ہے اور یہ بین الاقوامی ریاضی کے شعبے کے اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک ہے۔
میکسم کونٹسیوچ بین الاقوامی ریاضی کے تبادلوں میں ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے ان کے ریاضی کے چینی حلقوں کے ساتھ قریبی روابط قائم ہیں اور وہ چین کی جامعات اور سائنسی تحقیقی اداروں میں مہمان محقق کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
چین میں ریاضی کی ترقی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انہوں نے چین میں ریاضی کے مجموعی معیار کو مسلسل مستحکم انداز میں بلند ہوتے دیکھا ہے۔ انہیں چین میں ریاضی کی تحقیق کے مستقبل کے امکانات پر بہت زیادہ اعتماد ہے۔
خصوصی انٹرویو کے دوران پروفیسر کونٹسیوچ نے اے آئی کی تیز رفتار ترقی سے ریاضی کے شعبے کو حاصل ہونے والے مواقع اور درپیش چیلنجز پر بھی گفتگو کی، جبکہ بنیادی سائنس اور بین الشعبہ جاتی تحقیق کے بارے میں اپنے خیالات بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق چینی ریاضی دان عالمی سطح پر تیزی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، جبکہ بنیادی سائنس کی ترقی کو چین کی جانب سے دی جانے والی اہمیت بھی غیر معمولی معنویت رکھتی ہے
چین میں بے شمار غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ریاضی دان موجود ہیں، فیلڈز میڈل یافتہ ریاضی دان
- October 10, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 8 Views
- 1 week ago

Share This Post:
Related Post
چین، چوتھے “لیانگ چو فورم” کا ہانگ چو میں
October 18, 2026
90 فیصد افراد کا یاسوکونی شرائن کو “جنگی مجرموں
October 18, 2026
*چین کا مونٹی نیگرو کے ایک چین اصول پر
October 18, 2026
چینی وزیراعظم تاجکستان کے سرکاری دورے پر دوشنبے پہنچ
October 18, 2026
یورو زون میں افراطِ زر 3 سال کی بلند
October 18, 2026
دریائے لان زانگ کے کنارے چین، لاؤس، میانمار اور
October 18, 2026

Leave feedback about this