August 1, 2026
Islamabad, Pakistan.

جولائی میں 810 ارب ٹیکس جمع، ہدف سے 30 ارب روپے زائد وصولی

اسلام آباد: 

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مالی سال 2026-27 کے پہلے مہینے جولائی میں 810 ارب روپے ٹیکس جمع کرکے مقررہ ماہانہ ہدف سے 30 ارب روپے زائد وصولی کی ہے،مجموعی وصولیاں ہدف سے زائد رہیں، گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف 7 فیصد اضافہ ریکارڈکیاگیا، تاہم محصولات میں نمایاں بہتری کیلیے مزید اقدامات درکار ہوں گے۔

عارضی اعدادوشمارکے مطابق گزشتہ سال جولائی میں ایف بی آر نے 757 ارب روپے جمع کیے تھے،جبکہ رواں سال جولائی میں یہ رقم بڑھ کر 810 ارب روپے ہوگئی، حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایف بی آرکیلیے مالی سال کامجموعی ہدف 15۔263 کھرب روپے مقررکیاہے،جس کیلیے گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد اضافی وصولی ضروری ہوگی۔ 

آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کو ٹیکس ہدف کی تکمیل سے مشروط کردیاہے،جبکہ صوبوں نے بھی دفاع اور آبی وسائل کے منصوبوں کیلیے ایک کھرب روپے سے زائدگرانٹس دینے کاوعدہ اسی شرط پرکیاہے کہ ایف بی آر سالانہ ہدف حاصل کرے۔

اعدادوشمارکے مطابق جولائی میں انکم ٹیکس کی وصولی 300 ارب روپے سے زائد رہی، تاہم یہ مقررہ ہدف سے 23 ارب روپے کم تھی۔ ماہرین کے مطابق جون میں پیشگی ٹیکس وصولیوں اورجائیداد و تنخواہ دارطبقے پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی  بڑی وجوہات ہیں۔

دوسری جانب سیلز ٹیکس کی وصولی 358 ارب روپے رہی،جو ہدف سے 53 ارب روپے زیادہ اورگزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصدزائدہے،مجموعی سیلز ٹیکس کا تقریباً 78 فیصدیعنی 275 ارب روپے درآمدی مرحلے پر وصول کیاگیا،جہاں ٹیکس چوری کے امکانات نسبتاًکم ہوتے ہیں۔وفاقی ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی 48 ارب روپے رہی،جومعمولی طور پر ہدف سے زیادہ اورگزشتہ سال کے برابر ہے، جبکہ کسٹمز ڈیوٹی کی مدمیں 105 ارب روپے وصول کیے گئے،جو ہدف کے مطابق اورگزشتہ سال سے 2 ارب روپے زیادہ ہیں۔

 مجموعی طور پر ایف بی آر نے 54 فیصد یعنی 440 ارب روپے سے زائد محصولات درآمدی مرحلے پر جمع کیے،جہاں محصولات کی وصولی نسبتاً مؤثرسمجھی جاتی ہے۔جولائی کے دوران تقریباً 2 لاکھ 27 ہزار انکم ٹیکس گوشوارے بھی جمع کرائے گئے،جبکہ ایف بی آر نے 98 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے،جوگزشتہ سال کے مقابلے میں 13 ارب روپے زیادہ ہیں۔

دریں اثناایف بی آر حکومت کو ان افراد پرخریداری کی پابندی لگانے پر آمادہ نہیں کر سکا،جن کے ظاہرکردہ مالی وسائل مہنگی جائیداد،گاڑیاں یادیگر سرمایہ کاری کیلیے ناکافی ہیں۔ وفاقی کابینہ نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 114C کو یکم جولائی 2026 سے نافذکرنے کی تجویز مسترد کردی۔ 

قانون کے تحت ناکافی ظاہر شدہ وسائل رکھنے والے افرادکیلیے 70 لاکھ سے زائدمالیت کی گاڑی، 10کروڑسے زائدجائیداد، 5 کروڑسے زیادہ مالیت کے شیٔرز میں سرمایہ کاری اور بینک اکاؤنٹس سے مجموعی طور پر 10کروڑسے زائد نقد رقم نکالنے پر پابندی عائدکی جاناتھی۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field