May 5, 2026
Islamabad, Pakistan.

انصاف کی فوری فراہمی کی راہ ہموار، آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ آگیا

وفاقی آئینی عدالت نے عدالتی فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر اور فیصلے سنانے سے قبل لیک ہونے کے رجحان کے خلاف اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر فیصلہ نہ سنانا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا، جو سات صفحات پر مشتمل ہے۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ فیصلے کی نقول عملدرآمد کے لیے تمام ہائی کورٹس کو ارسال کی جائیں۔

فیصلے کے مطابق ہائی کورٹس محفوظ شدہ فیصلے 90 دن کے اندر سنانے کی پابند ہوں گی، بصورت دیگر تاخیر سے سنایا گیا فیصلہ اسی بنیاد پر کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ  اور ہائی کورٹس کے قواعد و ضوابط قانون کا درجہ رکھتے ہیں، اور ان کی خلاف ورزی کے نتائج بھی بھگتنا ہوں گے۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فیصلے سنانے سے قبل ان کا لیک ہونا قواعد کے منافی ہے۔ بنچ کا سربراہ ایسی صورت میں ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتا ہے، جو اسی یا کسی دوسرے بنچ کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ہائی کورٹس میں اس نوعیت کے معاملات چیف جسٹس کو جبکہ سپریم کورٹ میں ججز کمیٹی کو بھیجے جائیں گے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ حالیہ عرصے میں فیصلے محفوظ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے جس سے فریقین کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field