اسلام آباد: خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کی دانشمندانہ معاشی اور تجارتی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کی برآمدات اور تجارت میں زبردست پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے۔ SIFC کی حکمت عملی کی بدولت پاکستان نے برآمدات اور تجارتی ترقی میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔
ادارہ شماریات پاکستان (PBS) کے اعداد و شمار کے مطابق، جنوری میں پاکستان کی برآمدات پہلی بار 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جبکہ درآمدات کم ہو کر تقریباً 5.5 ارب ڈالر رہ گئیں۔ برآمدات میں تاریخی اضافے اور درآمدات میں نمایاں کمی کی وجہ سے تجارتی خسارے میں کمی آئی ہے۔ ماہانہ بنیادوں پر برآمدات میں تقریباً 35% اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ درآمدات میں تقریباً 5% کمی واقع ہوئی، جس سے تجارتی خسارہ نمایاں طور پر محدود ہو گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال کے پہلے سات مہینوں میں مجموعی برآمدات 18 ارب ڈالر اور درآمدات 40 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ جنوری 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ سہ ماہی بنیادوں پر 35% سے کم ہو کر تقریباً 28% رہ گیا۔
مشیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق، پاکستانی برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل سیکٹر کا ہے، جس نے ماہانہ بنیادوں پر دسمبر کے مقابلے جنوری میں ‘ویلیو ایڈڈ’ (Value-Added) شعبے میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے سامان، کیمیکل، فارما، سیمنٹ اور انجینئرنگ کی اشیاء جیسے اہم شعبوں کی برآمدات میں بھی واضح بہتری دیکھی گئی ہے، جبکہ ویلیو ایڈڈ سیکٹرز ملکی معیشت اور برآمدات میں موثر کردار ادا کر رہے ہیں۔
برآمدات میں اس اضافے کو ملکی زرمبادلہ کے فروغ، روزگار کے مواقع اور معاشی خود مختاری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کے خاتمے، بجلی کی قیمتوں میں کمی اور فنانسنگ کی شرح میں واضح کمی کو انقلابی اقدامات قرار دیا ہے، جو وزارت خزانہ اور SIFC کی مشترکہ کوششوں کا مظہر ہیں اور پاکستان کی تجارتی و معاشی ترقی کو فروغ دے رہے ہیں۔

Leave feedback about this