October 21, 2026
Islamabad, Pakistan.

چین کے تاریخی لانگ مارچ کی کامیابی کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد

اسلام آباد:چائنا میڈیا گروپ اور انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز، اسلام آباد کے اشتراک سے ’’ین آن جرنل: پہاڑوں اور سمندروں سے ماورا مکالمہ‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا، جس میں چین کے تاریخی لانگ مارچ کی کامیابی کے 90 سال مکمل ہونے کے تناظر میں اس کی تاریخی اہمیت، جذبۂ استقامت اور موجودہ دور میں اس کی معنویت کو اجاگر کیا گیا۔ چینی سفارت خانے کے ثقافتی قونصلر چن پھنگ تقریب کے مہمانِ اعزاز تھے، جبکہ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی نے اپنے تحریری پیغام میں موضوع سے متعلق خیالات کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے اپنے پیغام میں کہا کہ تاریخی ورثے کا تحفظ صرف تاریخی مقامات اور اشیاء کو محفوظ رکھنے تک محدود نہیں، بلکہ ان تجربات، کہانیوں اور اقدار کو نئی نسلوں تک منتقل کرنا بھی ضروری ہے جو قوموں کی شناخت تشکیل دیتے ہیں۔ انہوں نے لانگ مارچ جیسے تاریخی واقعے کو دستاویزی فلموں کے ذریعے اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی ابلاغی کاوشیں تاریخ اور اس سے وابستہ عزم، قربانی اور استقامت کے جذبے کو نسلِ نو تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔چینی ثقافتی قونصلر چن پھنگ نے اپنے خطاب میں لانگ مارچ کو قربانی، استقامت اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے اتحاد کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ نے چینی انقلاب کی سمت متعین کرنے اور بالآخر اس کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس تاریخی سفر کے جذبے کو مشکلات کا سامنا کرنے، اجتماعی عزم برقرار رکھنے اور مشترکہ مقصد کے لیے ثابت قدم رہنے کی مثال قرار دیا۔چن پھنگ نے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کی علامت شاہراہِ قراقرم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تعمیر دونوں ممالک کی مشترکہ جدوجہد، قربانیوں اور باہمی تعاون کی عکاس ہے۔ انہوں نے شاہراہ کی تعمیر کے دوران چینی اہلکاروں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے اسے پاک چین دوستی اور باہمی اعتماد کی نمایاں علامت قرار دیا۔امورِ چین کے ماہر و سینئر تجزیہ کار شکیل احمد رامے نے لانگ مارچ کے تاریخی راستوں اور مقامات کے اپنے حالیہ دورے کے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت، شناخت اور نظریاتی وابستگی کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا جذبہ قربانی، بے خوفی، دیانت داری اور مشکلات کے باوجود اپنے مقصد پر ثابت قدم رہنے کی علامت ہے۔ انہوں نے اس تاریخی ورثے کو صدر شی جن پھنگ کے وژن کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا، جس کے تحت چین اپنی تاریخی جدوجہد سے رہنمائی لیتے ہوئے قومی ترقی اور تجدید کے سفر کو آگے بڑھا رہا ہے۔سیمینار میں لانگ مارچ کے تاریخی راستوں اور مقامات پر مبنی ایک خصوصی ڈاکیومنٹری بھی دکھائی گئی، جس میں چین کی تاریخ، چینی قوم کے عزم و حوصلے اور اس تاریخی سفر سے وابستہ جدوجہد کو نمایاں کیا گیا۔ ڈاکیومنٹری میں لانگ مارچ کے جذبے کو جدید چین کے ترقیاتی سفر اور صدر شی جن پھنگ کے وژن سے مربوط کیا گیا، جس میں قومی تجدید، ترقی کے تسلسل اور ہر نسل کی جانب سے اپنے دور کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے تصور کو اہمیت حاصل ہے۔ماہرِ تعلیم اور سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر حسان داؤد بٹ نے چین کے ترقیاتی وژن 2049 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ سے وابستہ عزم، استقامت اور اجتماعی جدوجہد کی اقدار آج بھی چین کے ترقیاتی سفر کو سمجھنے میں اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے صدر شی جن پھنگ کے پائیدار ترقی اور قومی تجدید کے وژن، پالیسیوں کے تسلسل، مؤثر حکمرانی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ طویل المدتی اہداف کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد اور بدلتے حالات کے مطابق فیصلے کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ثقافتی احترام، نوجوانوں کے روابط، چینی زبان سیکھنے اور عوامی سطح پر تبادلوں کو فروغ دینا دونوں ممالک کی دوستی کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔سیمینار میں اس امر پر زور دیا گیا کہ لانگ مارچ کا جذبہ صرف چین کی تاریخ کا اہم باب نہیں، بلکہ استقامت، نظم و ضبط، دیانت داری، خود انحصاری اور عوام کی خدمت جیسی اقدار کا مظہر بھی ہے۔ مقررین نے اس تاریخی ورثے کو صدر شی جن پھنگ کے وژن، جدید چین کی ترقی اور قومی تجدید کے تناظر میں سمجھنے اور دستاویزی فلموں و ثقافتی تبادلوں کے ذریعے پاک چین دوستی کو مزید مستحکم بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field