October 15, 2026
Islamabad, Pakistan.

جاپانی حکمرانوں کو تاریخی حقائق کا سامنا کرکے اپنی اصلاح کرنی چاہئیے،چینی وزارت خارجہ

حالی ہی میں جاپانی ذرائع ابلاغ نے پہلی مرتبہ یاسوکونی شیرائن کے اندرونی اجلاسوں کے منٹس جاری کیے ہیں ، جس میں دوسری جنگِ عظیم کے کلاس اے کے 14جنگی مجرموں کی یادگار کو مزار میں شامل کرنے کے فیصلے کے عمل کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔منٹٹس کے مطابق ، جاپانی حکومت نے گزشتہ صدی کی 60 کی دہائی میں ہی یاسوکونی شیرائن کی انتظامیہ کے ساتھ ان جنگی مجرموں کی یادگار کو مزار میں شامل کرنے کے انتظامات طے کر لیے تھے، تاہم اس بارے میں عوامی سطح پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ ان حقائق کا انکشاف بیرونی دنیا کے سامنے 1979ء میں ہوا۔

15 اکتوبر کو چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے معمول کی پریس کانفرنس میں اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریکارڈ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اُس وقت جاپانی حکومت بخوبی جانتی تھی کہ کلاس اے جنگی مجرموں کو یاسوکونی شیرائن میں شامل کرنا انتہائی شرمناک عمل ہے، اسی لیے فیصلے کو خفیہ رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ جنگی مجرم جاپانی عسکریت پسندی کی جارحانہ جنگ کے اصل ذمہ دار تھے اور ان کے ہاتھ متاثرہ ممالک کے عوام کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ٹوکیو ٹرائل نے بین الاقوامی انصاف کا تقاضا پورا کیا اور جنگ کے بعد کے عالمی نظام کی قانونی بنیاد قائم کی۔ترجمان نے سوال اٹھایا کہ جاپان کے موجودہ حکمران بار بار ایسے مقام کے لیے اپنی عقیدت کا اظہار کیوں کرتے ہیں جو درحقیقت جنگی مجرموں کی قبور کا مقام ہے۔ کیا ان حکمرانوں میں ضمیر نا م کی کوئی شے باقی ہے؟ماؤ نِنگ نے زور دے کر کہا کہ تاریخ کو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔ جاپان کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ تاریخی حقائق کا سامنا کریں، اپنے جرائم پر غور و فکر کریں اور خود کو بدلنے کا آغاز کریں

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field