اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن پر انکم ٹیکس کی وصولی کے لیے عملی اقدامات تیز کر دیے ہیں اور اس حوالے سے باقاعدہ طریقہ کار وضع کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سوشل میڈیا سے وابستہ افراد، ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز طلب کر لی گئی ہیں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ متعلقین ایک ہفتے کے اندر اپنی آراء اور سفارشات جمع کرائیں، جس کے بعد سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن پر انکم ٹیکس وصولی کا حتمی طریقہ کار طے کر لیا جائے گا۔
حکام کے مطابق مقررہ مدت کے دوران موصول ہونے والی تجاویز اور اعتراضات کو زیر غور لایا جائے گا۔ سوشل میڈیا سے آمدنی کمانے والے افراد کے لیے ٹیکس نظام کو انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 99 سی کے تحت باقاعدہ قانونی شکل دی جائے گی۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے جامع فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے، جس کے تحت غیر رہائشی افراد بھی اگر پاکستانی صارفین کی ویورشپ یا سبسکرپشن سے آمدنی حاصل کریں گے تو انہیں بھی انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
مجوزہ طریقہ کار کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک مالی سال میں 50 ہزار ویوز کو کاروباری سرگرمی تصور کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ایک سہ ماہی میں 12 ہزار 500 ویوز بھی کاروباری حد میں شمار کیے جانے کی تجویز شامل ہے۔ اس کے علاوہ یوٹیوب پر 1000 ویوز کے عوض 195 روپے آمدن تصور کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد ڈیجیٹل معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن کو قومی ٹیکس نظام میں شامل کرنا ہے۔

Leave feedback about this