نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اکتوبر 2025 سے افغانستان کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری تھا، جس کے بعد پاکستان کے پاس کارروائی کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔
اسلام آباد میں سفیروں کو افغانستان اور ایران کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سفارتکاری اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے اور اس مقصد کے لیے آخری حد تک کوشش کی گئی۔ تاہم ان کے بقول افغانستان کی سرزمین متعدد دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس سرحد پار دہشت گردی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور انہی بنیادوں پر افغانستان میں دہشت گرد عناصر کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح تھا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ ان کے مطابق قطر کی درخواست پر وزیر دفاع کو افغانستان بھیجا گیا، لیکن اس پیش رفت کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن “غضب للحق” سے متعلق تازہ بیان میں کہا کہ 2 مارچ کی سہ پہر تک افغان طالبان حکومت کے 435 اہلکار ہلاک اور 630 سے زائد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق 188 چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 31 پر قبضہ کر لیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 188 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے تباہ کیے گئے اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں 51 مقامات کو فضائی کارروائی کے ذریعے مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔

Leave feedback about this