مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد عالمی منڈی میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے،جی 7 ممالک کے وزرائے خزانہ ذخائر سے تیل جاری کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
جی 7 کے ہنگامی اجلاس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ عالمی منڈی کو مستحکم کرنے کے لیے 300 سے 400 ملین بیرل تک تیل ذخائر سے جاری کیا جائے۔ اس اجلاس میں انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ بھی شریک ہوں گے۔
ان رپورٹس کے سامنے آنے کے بعد تیل کی عالمی منڈی میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا جس کے نتیجے میں برینٹ کروڈ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا کچھ حصہ کم ہو گیا۔ تاہم دونوں اقسام کا خام تیل اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق زیر غور مقدار 2022 کے اس اقدام سے کہیں زیادہ ہے جب انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے روس اور یوکرین جنگ کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث 240 ملین بیرل تیل عالمی ذخائر سے جاری کیا تھا۔ اس وقت جاری کیے گئے تیل کا تقریباً آدھا حصہ امریکہ کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا۔
آئی ای اے کے تین رکن ممالک، جن میں امریکہ بھی شامل ہے، مشترکہ طور پر تیل جاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔ تاہم گزشتہ جمعے کو آئی ای اے کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی کمی نہیں اور اس وقت ہنگامی بنیادوں پر ذخائر جاری کرنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جی 7 ممالک واقعی بڑے پیمانے پر تیل جاری کرتے ہیں تو اس سے عالمی منڈی میں قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Leave feedback about this